Aaj TV News

BR100 4,644 Decreased By ▼ -89 (-1.89%)
BR30 20,295 Decreased By ▼ -45 (-0.22%)
KSE100 45,304 Decreased By ▼ -240 (-0.53%)
KSE30 17,708 Decreased By ▼ -103 (-0.58%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,269,806 572
DEATHS 28,392 6
Sindh 468,164 Cases
Punjab 439,307 Cases
Balochistan 33,204 Cases
Islamabad 106,749 Cases
KP 177,553 Cases

ایسی کونسی چیز ہے جو پرندوں کو اڑنے کے قابل بناتی ہے لیکن مملیوں سوائے چمگادڑ کو نہیں؟ بالآخر اس سوال کا جواب مل گیا ہے۔

یروشلم پوسٹ کےمطابق ہیبریو یونیورسٹی آف یروشلم میں کی جانے والی تحقیق میں اس بات کاسراغ لگالیاگیا ہے کہ ایسی کونسی خاص چیزہے جس کے سبب پرندے فضاء میں اڑ سکتے ہیں لیکن چونکہ وہ چیز انسان اور دیگر جانور میں نہیں ہوتی اس لئے یہ جاندار نہیں اڑ پاتے۔ یہ اصل میں 'مخصوص مالیکیولرخصوصیات' ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق جس طرح مملیوں کے چلنے کی صلاحیت ریڑھ کی ہڈی کےجینیاتی طورپربنےہونے کی وجہ سے ہوتی ہےاسی طرح پرندوں کےاڑنے کی صلاحیت بھی ریڑھ کی ہڈی کی وجہ سےہے۔اڑنےکےلئےجو خصوصیت درکار ہوتی ہے وہ ephrin-B3 مالیکیول کی جینیٹک کوڈنگ ہوتی ہےجو پرندوں کو اڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ پرندوں میں اس مالیکیول کا جینیٹک کوڈ رینگنے والے جانوروں(ریپٹائلز) اور مملیوں کی نسبت بنیادی طور پر ہی مختلف ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک چوہا جس کے ephrin-B3 میں تبدیلی کی گئی تھی، اس نے پرندوں کی طرح دائیں اور بائیں اچھل کر حرکت کی۔ اس بات نے سائنسدانوں کی اس تھیوری کو مضبوط کیا کہ وقت کے ساتھ جینیاتی تبدیلیوں نے پرندوں کی حرکات کے طرز کا تعین کیا ہے جیسے کہ ایک ساتھ دونوں پر پھڑپھڑانا جو انہیں پرواز کی صلاحیت دیتا ہے۔