Aaj TV News

BR100 5,093 Decreased By ▼ -3 (-0.06%)
BR30 25,710 Decreased By ▼ -45 (-0.17%)
KSE100 47,312 Decreased By ▼ -6 (-0.01%)
KSE30 18,963 Decreased By ▼ -11 (-0.06%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,020,324 4,497
DEATHS 23,209 76
Sindh 374,434 Cases
Punjab 354,904 Cases
Balochistan 30,019 Cases
Islamabad 86,602 Cases
KP 142,799 Cases

ایسی کونسی چیز ہے جو پرندوں کو اڑنے کے قابل بناتی ہے لیکن مملیوں سوائے چمگادڑ کو نہیں؟ بالآخر اس سوال کا جواب مل گیا ہے۔

یروشلم پوسٹ کےمطابق ہیبریو یونیورسٹی آف یروشلم میں کی جانے والی تحقیق میں اس بات کاسراغ لگالیاگیا ہے کہ ایسی کونسی خاص چیزہے جس کے سبب پرندے فضاء میں اڑ سکتے ہیں لیکن چونکہ وہ چیز انسان اور دیگر جانور میں نہیں ہوتی اس لئے یہ جاندار نہیں اڑ پاتے۔ یہ اصل میں 'مخصوص مالیکیولرخصوصیات' ہوتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق جس طرح مملیوں کے چلنے کی صلاحیت ریڑھ کی ہڈی کےجینیاتی طورپربنےہونے کی وجہ سے ہوتی ہےاسی طرح پرندوں کےاڑنے کی صلاحیت بھی ریڑھ کی ہڈی کی وجہ سےہے۔اڑنےکےلئےجو خصوصیت درکار ہوتی ہے وہ ephrin-B3 مالیکیول کی جینیٹک کوڈنگ ہوتی ہےجو پرندوں کو اڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ پرندوں میں اس مالیکیول کا جینیٹک کوڈ رینگنے والے جانوروں(ریپٹائلز) اور مملیوں کی نسبت بنیادی طور پر ہی مختلف ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک چوہا جس کے ephrin-B3 میں تبدیلی کی گئی تھی، اس نے پرندوں کی طرح دائیں اور بائیں اچھل کر حرکت کی۔ اس بات نے سائنسدانوں کی اس تھیوری کو مضبوط کیا کہ وقت کے ساتھ جینیاتی تبدیلیوں نے پرندوں کی حرکات کے طرز کا تعین کیا ہے جیسے کہ ایک ساتھ دونوں پر پھڑپھڑانا جو انہیں پرواز کی صلاحیت دیتا ہے۔