Aaj.tv Logo

ترکی کے خفیہ ایجنٹس نے بیرون ملک آپریشن میں امریکہ میں مقیم رہنما فتح اللہ گولن کے بھتیجے کو گرفتار کرکے ترکی منتقل کردیا ہے۔ جہاں انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

الجزیرہ کے مطابق پیر کو ترکی کی سرکاری انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ صلاح الدین گولن ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزام میں ترکی میں مطلوب تھے، جنہیں ترکی کی قومی جاسوس ایجنسی "ایم آئی ٹی" نے ایک کارروائی میں پکڑا۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ انہیں کہاں سے گرفتار کیا گیا تھا یا انہیں کب ترکی واپس لایا گیا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ہے کہ صلاح الدین کینیا میں رہ رہے تھے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 6 مئی کو کینیا کی ایک عدالت نے صلاح الدین کی گرفتاری اور ترکی حوالگی پر پابندی عائد کردی تھی۔

عدالت نے ان کا پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم بھی دیا اور کہا کہ انہیں امریکہ واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

صلاح الدین، ترکی کی درخواست پر جن کیلئے انٹرپول نے ریڈ نوٹس جاری کیا تھا، 17 اکتوبر 2020 کو نیروبی پہنچے تھے اور دو دن بعد ضمانت پر رہا ہونے سے قبل انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

ان کا معاملہ "گولن تحریک" سے وابستہ لوگوں کی زبردستی وطن واپسی کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے، جسے ترک حکومت سن 2016 میں بغاوت کی ناکام کوشش کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

فتح اللہ گولن ترک صدر رجب طیب اردگان کے سابق اتحادی ہیں، جو اب امریکہ میں مقیم ہیں، انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

ترکی نے فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد گروہ کے نام سے منسوب کیا ہے، جسے اس نے فتح اللہ دہشتگرد تنظیم یا ایف ای ٹی او کا نام دیا ہے۔

اس سے قبل مئی میں ، اردگان نے اعلان کیا تھا کہ گولن نیٹ ورک کے ایک ممتاز ممبر کو پکڑا گیا ہے لیکن اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔