Aaj TV News

BR100 5,093 Decreased By ▼ -3 (-0.06%)
BR30 25,710 Decreased By ▼ -45 (-0.17%)
KSE100 47,312 Decreased By ▼ -6 (-0.01%)
KSE30 18,963 Decreased By ▼ -11 (-0.06%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,020,324 4,497
DEATHS 23,209 76
Sindh 374,434 Cases
Punjab 354,904 Cases
Balochistan 30,019 Cases
Islamabad 86,602 Cases
KP 142,799 Cases

’’بی ایم جے اوپن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ کے بھائی بہنوں کی تعداد زیادہ ہے یا بہن بھائیوں میں آپ کا دوسرا یا تیسرا نمبر ہے تو آپ کیلئے دل کی بیماریوں اور دیگر مسائل کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

سویڈن کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی یہ اپنی نوعیت کی بڑی تحقیق ہے 73 سال کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں 1932 سے 1960 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی زندگی اور صحت سے متعلق اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

اس تحقیق میں 26 لاکھ 80 ہزار افراد کی صحت کا جائزہ دو مرحلوں میں لیا گیا ہے، جن میں 13 لاکھ 60 ہزار مرد اور 13 لاکھ 20 ہزار خواتین شامل تھے۔ ابتدائی مرحلے میں افراد کی عمر 30 سے 58 سال کے درمیان، جبکہ دوسرے مرحلے میں 55 سے 83 سال کے درمیان تھی۔

یہ تمام اعداد و شمار سویڈن میں عوامی صحت و زندگی سے متعلق تمام معلومات رکھنے والے سب سے بڑے سرکاری ادارے ’’ملٹی پل جنریشن رجسٹر‘‘ سے حاصل کیے گئے ہیں۔

اس تحقیق میں خاندانی امراض، عادات و اطوار، مالی حیثیت اور ایسے دیگر پہلوؤں کے ممکنہ اثرات کو خارج کرنے کے بعد مردوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ جن مردوں کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا، ان کے مقابلے میں ایک سے دو بہن بھائیوں والے مردوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ کم تھا، جبکہ چار یا زیادہ بہن بھائیوں والے مردوں کےلیے یہ خطرہ زیادہ تھا۔

دوسری جانب ایک سے دو بہن بھائیوں والے مردوں میں دل یا دل سے متعلق کسی بھی بیماری سے مرنے کا خطرہ کم دیکھا گیا جبکہ تین یا زیادہ بہن بھائیوں والے مردوں کیلئے یہ خطرہ زیادہ تھا۔

اسی طرح تحقیق کے دوران خواتین کے بارے میں پتا چلا کہ جن خواتین کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا، ان کی نسبت دو یا زیادہ بہن بھائیوں والی خواتین میں دل کی بیماریوں اور ایسی کسی بھی بیماری سے موت کا خطرہ بھی زیادہ تھا۔ البتہ صرف ایک بہن یا بھائی والی خواتین میں امراضِ قلب اور ان سے موت کا خطرہ مجموعی طور پر بہت کم دیکھا گیا۔

یہ مطالعہ بہت وسیع ہے لیکن اسے مرتب کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی طرح کے سوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہیں جن کا تعلق خاندان میں افراد کی تعداد کے ساتھ ساتھ معاشرتی و تمدنی پس منظر اور پسِ پردہ حیاتیاتی نظاموں سے بھی ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو جانچ کر ہی ہم پورے وثوق سے کسی خاندان میں لوگوں کی تعداد اور امراض کے بارے میں کچھ کہہ سکیں گے۔