Aaj TV News

BR100 4,760 Increased By ▲ 44 (0.92%)
BR30 21,142 Increased By ▲ 302 (1.45%)
KSE100 45,643 Increased By ▲ 144 (0.32%)
KSE30 17,869 Increased By ▲ 45 (0.25%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,266,826 622
DEATHS 28,328 16
Sindh 466,750 Cases
Punjab 438,433 Cases
Balochistan 33,149 Cases
Islamabad 106,571 Cases
KP 177,132 Cases

صدرِ مملکت کی جانب سے 24 مارچ کو جاری کیے گئے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم سے آئی ٹی سیکٹر سمیت کئی شعبوں سے وابستہ صنعتوں کو 100 فی صد ٹیکس کریڈٹ (یعنی ایک خاص مدت تک ٹیکس نہ ادا کر کے اسے حکومت سے حاصل کیا گیا قرضہ تصور کیا جائے) کی سہولت بھی حاصل ہو گی.

لیکن آئی ٹی کے شعبے سمیت صوبہ سندھ میں کوئلے کی مائننگ کرکے اس سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو سپلائی کرنا، ویب ڈیزائننگ، ویب ڈویلپمنٹ، نیٹ ورک ڈیزائن، سسٹم انٹی گریشن، کال سینٹرز، ریموٹ مانیٹرنگ، اکاؤنٹنگ سروسز، ٹیلی میڈیسن سینٹرز، انشورنس کلیمز اور مقامی سطح پر تیار کردہ ٹی وی پروگرامز کو برآمد کرنے کی آمدنی کو بھی ٹیکس استثنیٰ سے ٹیکس کریڈٹ میں تبدیل کیا گیا ہے۔

یہ سہولت بھی انہی افراد کو حاصل ہو گی جو پہلے سے ٹیکس ریٹرنز باقاعدگی سے جمع کراتے ہیں۔

اسی طرح کئی فلاحی و مذہبی تنظیموں، ٹرسٹ، ویلفیئر اداروں، غیر منافع بخش کمپنیوں، تعلیمی مقاصد کے لیے قائم وقف بورڈز اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

ایسے 62 اداروں کو عطیات، رضاکارانہ فنڈنگ، پراپرٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی، حکومتی سیکیورٹیز میں کی جانے والی سرمایہ کاری، بینک سے حاصل منافع اور مختلف مد میں کیے جانے والے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انکم ٹیکس کریڈٹ کے نیٹ میں لایا گیا ہے۔

اسی طرح نیپرا ایکٹ میں ترمیم کر کے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اختیار نیپرا کے ساتھ حکومت کو بھی حاصل ہو گیا ہے۔ جس کا مقصد 2023 تک مرحلہ وار بجلی کی قیمتوں میں 34 فی صد اضافہ کرکے توانائی کے شعبے میں اس وقت جس نقصان کا سامنا ہے اسے پورا کیا جانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مد سے 700 ارب روپے اضافی ریونیو اکھٹا کیا جا سکے گا۔

کیا عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑے گا؟

ٹیکس امور اور معاشی ماہرین کی جانب سے اس پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ ٹیکس امور کے ماہر علی رحیم کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکس سے استثنیٰ کو تو پہلے ہی ختم کر دینا چاہیے تھا لیکن اس میں بلاوجہ تاخیر کی گئی۔

اُن کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض شعبوں اور اداروں کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے سے ان کے کاروبار کی لاگت تو بڑھے گی اور اس کا اثر لامحالہ عوام پر بھی پڑے گا۔