Aaj TV News

BR100 4,762 Increased By ▲ 46 (0.96%)
BR30 20,787 Decreased By ▼ -53 (-0.26%)
KSE100 45,672 Increased By ▲ 173 (0.38%)
KSE30 17,927 Increased By ▲ 103 (0.58%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,266,826 622
DEATHS 28,328 16
Sindh 466,750 Cases
Punjab 438,433 Cases
Balochistan 33,149 Cases
Islamabad 106,571 Cases
KP 177,132 Cases

وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر 5.65 روپے فی یونٹ اضافے کے لیے صدارتی آرڈیننس لانے کی منظوری دے دی۔

بجلی کی قیمت میں یہ فوری اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیا جارہا ہے جس کا مقصد بجلی صارفین سے اکتوبر تک 884 ارب روپے اضافی رونیو اکٹھا کرنا ہے۔

5.65 روپے فی یونٹ اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جس کی وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری دے دی ہے۔ وفاقی کابینہ نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت حکومت کو بجلی پر ریونیو بڑھانے کے لیے مزید 10 فیصد سرچارج لگانے کا اختیار بھی حاصل ہوجائے گا اور وہ بجلی کی قیمت میں 1.40 روپے فی یونٹ اضافہ کرسکے گی۔

اس کا مقصد سرکولر ڈیٹ پروگرام پر عمل درآمد کرنا ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے۔ کابینہ کی طرف سے ان آرڈیننس کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ نمائندہ ٹیریسیا دابا نے پاکستان زندہ باد کا ٹوئٹ کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف قرضے کی تمام شرائط پوری کرچکا ہے اور آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کے لیے قرضے کے قسط کی منظوری کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمت میں 5.65 روپے یونٹ اضافے کا مقصد بلز میں سے ٹیکس نکال کر 36 فیصد اضافہ ہے۔ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کے مطابق اپریل 2021 سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ 6 مرحلوں میں ہوگا جو جون 2023 تک جاری رہے گا۔

بجلی کی قیمت میں دو بار اضافہ سالانہ ٹیرف ایڈجسمنٹ اور 4 سہہ ماہی ایڈجسمنٹس کے تحت کیا جائے گا۔ اس کے بعد 10 فیصد سرچارج شامل ہونے سے قیمت 7 روپے فی یونٹ بڑھ جائے گی جس کا صارفین پر 934 ارب روپے اضافی بوجھ پڑے گا۔ حکومت سالانہ ٹیرف کے تحت بجلی کی قیمت میں 1.95 روپے یونٹ کا اضافہ گزشتہ ماہ ہی کرچکی ہے۔ اضافی قیمت شامل کرنے سے بجلی کی قیمت میں مجموعی اضافہ 8.95 روپے فی یونٹ ہوجائے گا اور اس مد میں صارفین سے 1.134 ٹریلین روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔