Aaj.tv Logo

بچے وبائی مرض کووڈ 19 کی منتقلی کا سبب نہیں بنتے ہیں ، وہ شاذ و نادر ہی بیمار پڑتے ہیں۔ تاہم ، یہ صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

بچے شاذو نادر ہی COVID-19 کا شکار ہوتے ہیں۔ اس بارے میں تو ایک عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ تاہم ، یہ بات ہر گز یقینی نہیں ہے۔ کورونا "میوٹیشن" اس صورتحال کو کس طرح بدل سکتی ہے اور آیا مستقبل میں بچوں کے لیے بھی کورونا ویکسین دستیاب ہوگی یہ تمام سوالات ہنوز جواب طلب ہیں۔

برلن کے متعدی امراض کی تحقیق کے ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق جرمنی میں 15 سال سے کم عمر کے بچوں میں کووڈ انیس کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس امر کی نشاندہی جرمن وزیر صحت ژینس اسپاہن اور رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے صدر لوتھر وائلر نے حال ہی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کی۔

وائلر کے بقول، 'ایسے اشارے ملے ہیں کہ برطانیہ سے پھیلنے والا تبدیل شدہ B 1.1.7 انفیکشن کے محرکات ڈے کیئر سینٹرز میں پھیل رہے ہیں۔ یہ انتہائی تشویش ناک امر ہے کیونکہ ابھی حال ہی میں ڈے کیئر سینٹرز اور اسکولوں کو جزوی طور پر کھولا گیا ہے۔

تاہم جرمن شہر وؤرسبرگ کی پونیورسٹی کلینک سے وابستہ ماہر امراض اطفال ژوہانس لیزے کے لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ان کے بقول، 'جب ہم ڈے کیئر اور اسکول کھول دیں گے تو ظاہر ہے کہ یہ انفیکشن منتقل ہونا شروع ہوگا۔' ڈاکٹر لیزے نے تاہم ابھی اس انفیکشن کے بچوں میں پھیلاؤ سے متعلق تمام تفصیلات نہیں بتائیں۔ فی الحال وہ اس پرمزید تحقیق کر رہے ہیں۔

٭ کووڈ انیس کے متاثرین

کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کو ایک سال کا عرصہ ہو گیا اس دوران تمام تر تحقیقاتی نتائج یہی بتاتے ہیں کہ کووڈ انیس کا شکار زیادہ تر بالغ افراد ہوتے ہیں۔ 'بچے مجموعی طور پر کووڈ انیس سے کم متاثر ہوتے ہیں اور اگر ان پر کورونا وائرس حملہ آور ہو بھی جائے تو اس کے اثرات بچوں پر کم سنگین ہوتے ہیں۔' یہ کہنا ہے شہر ویزباڈن کی بچوں کی کلینک کے سربراہ ڈاکٹر ہارسٹ شمٹ کا۔

انہوں نے شہر ڈریسڈن کی یونیورسٹی کلینک کے تعاون سے بچوں کی کلینکس میں سامنے آنے والے کووڈ کیسز کی تعداد کے بارے میں اندازہ لگانے کے لیے ایک خاص نظام تشکیل دیا ہے جس کی مدد سے جرمنی کے تمام بچوں کے ہسپتالوں میں کووڈ انیس کے کیسز کے اعداد و شمار اکٹھا کیے جائیں گے۔

7 مارچ کے وسط تک جرمنی کے ہسپتالوں میں ایک ہزار اکاون مریض بچوں کا داخلہ ہوا اور ان میں سے محض 5 فیصد کو انتہائی نگہداشت یونٹ یا 'آئی سی یو‘ میں داخل کرنے کی ضرورت پیش آئی اور ان میں سب سے زیادہ متاثرہ دو تہائی بچے جنہیں ہسپتال کے وارڈ میں داخل کر کے ان کا علاج کیا گیا، شیر خوار یا بہت کم عمر بچے شامل ہیں اور 30 فیصد کو پہلے ہی سے کسی نا کسی بیماری کا سامنا تھا۔

اس انفیکشن کا شکار ہونے والے بیشتر بچے علاج مکمل ہونے پر ہسپتال سے گھر چلے جاتے ہیں۔ بالغ افراد با بڑوں کے برعکس صرف چند ہی بچوں طویل عرصے تک زیر علاج رہنا پڑتا ہے۔

تاہم 'جرمن سوسائٹی آف پیڈیاٹری انفیکشن‘ DGPI نے اپنی ویب سائٹ پر بچوں میں کووڈ انیس کی موجودگی سے متعلق دوسرا رپورٹنگ سسٹم انسٹال کیا ہے۔ اس میں یہ نشاندہی موجود ہے کہ بچوں میں بھی کووڈ انیس کے سنگین کیسز سامنے آ سکتے ہیں۔ اسے ' پیڈیاٹری انفلیمیٹری ملٹی سسٹم سنڈروم‘ کہا جاتا ہے۔ اس عارضے کی علامات کاراساکی سنڈروم جیسی ہی ہوتی ہیں۔ خون کی شریانوں کی سوزش اور نسوں کا انفیکشن۔ اب تک 223 بچوں میں اس انفیکشن کی تشخیص ہو چُکی ہے اور ان میں سے 10 فیصد میں بیماری کے سنگین اثرات اور نقصانات پائے گئے۔

B 1.1.7 انفیکشن کس حد تک پھیلے گا اس بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی تاہم کووڈ انیس صرف بالغ اور معمر افراد پر حملہ آور ہوگا، اسے حتمی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ جرمن ماہرین کم عمر افراد اور بچوں میں بھی اس کے امکانات کو بعید الزامکان قرار نہیں دے رہے۔