Aaj TV News

BR100 4,520 Decreased By ▼ -151 (-3.23%)
BR30 17,886 Decreased By ▼ -948 (-5.04%)
KSE100 44,102 Decreased By ▼ -1267 (-2.79%)
KSE30 17,042 Decreased By ▼ -534 (-3.04%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

جاپانی سائنس دانوں نے ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تبدیلی کرکے ان سے حاصل ہونے والے ریشم کو معمول سے دگنا مضبوط بنا لیا ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’مٹیریلز اینڈ ڈیزائن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تجرباتی طور پر ’’سیلولوز نینوفائبر‘‘ (CNF) نامی مادّہ شامل کیا۔

ویسے تو ’’سی این ایف‘‘ کئی پودوں کے علاوہ لکڑی کی باقیات میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن توہوکو یونیورسٹی، جاپان کے ماہرین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ نینو سیلولوز فائبرز کو ریشم کے کیڑوں کی غذا میں کچھ ایسے شامل کیا جائے کہ ان سے بننے والا ریشم بھی زیادہ بہتر، پائیدار اور مضبوط ہو۔

قدرتی طور پر ریشم کے کیڑے شہتوت کے پتے کھا کر ریشم بناتے ہیں۔ تاہم تجارتی پیمانے پر پالے گئے ریشم کے کیڑوں کو کچھ مختلف غذا دی جاتی ہے جس کا انحصار ان سے حاصل ہونے والے ریشم کے معیار اور مطلوبہ خصوصیات پر ہوتا ہے۔

توہوکو یونیورسٹی، میاگی کے ماہرین سیلولوز نینوفائبرز کو ریشم کے کیڑوں کی تجارتی غذا میں شامل کیا۔

انہیں معلوم ہوا کہ ریشم کے جن کیڑوں کی غذا میں سیلولوز نینوفائبرز شامل تھے، ان سے حاصل شدہ ریشم ایسے کیڑوں کے مقابلے میں دگنا مضبوط تھا جو شہتوت کے پتے کھاتے ہیں۔

یہ کامیابی اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ ریشم کا استعمال کپڑوں کی تیاری کے علاوہ سرجری اور بیجوں کے غلاف بنانے سمیت، کئی طرح کے کاموں میں ہورہا ہے۔

جاپانی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کامیابی ادھوری ہے کیونکہ ان کا مقصد ایسے ریشم کی تیاری ہے جو پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ فولاد سے 5 گنا زیادہ مضبوط بھی ہو۔