Aaj.tv Logo

شام میں امریکی فوجی حملہ جو بائیڈن کی صدارت میں ہونے والا پہلا حملہ ہے جس پر انہیں مشرقی وسطیٰ کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

واشنگٹن میں موجود چند مبصرین کے مطابق جو بائیڈن اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین سیاسی طریقہ کار میں واضح فرق رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں اتحادی افواج پر حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمان کو قتل کرکے طاقت کا متنازع استعمال کیا۔

ادھر تہران یونیورسٹی کے انگریزی ادب اور مشرقی زبانوں کے پروفیسر سید محمد ماراندی نے اپنی ایک ٹوئٹ میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن کا یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کی طرح بدترین ہے۔

دوسری جانب امریکی فضائی حملے پر ردعمل دیتے ہوئے شام کا کہنا تھا کہ یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے، لہٰذا جو بائیڈن کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ جنگل کے قانون کی پیروی نہ کریں۔

علاوہ ازیں شامی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام، عراقی سرحد کے قریب دیر الزور کے علاقے میں امریکا کے بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ کو جائز بین الاقوامی قانونی چارہ جوئی کا حامل سمجھا جاتا ہے نہ کہ جنگل کا قانون نافذ کرنے والا جیسے سابق انتظامیہ نے کیا تھا۔

واضح رہے کہ شام کی حکومت کو پہلے ہی امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے تحت ریاست، سیکڑوں کمپنیوں اور شہریوں کے اثاثے منجمد ہیں۔

واشنگٹن اپنے شہریوں پر شام کو برآمدات اور سرمایہ کاری پر پابندی لگا چکا ہے، اسی طرح تیل اور ہائیڈروکاربن سے متعلق مصنوعات کی ترسیل بھی منجمد ہے۔

ایک اندازے کے مطابق شام کی خانہ جنگی میں 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔