Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,189 303
DEATHS 28,709 5
Sindh 475,248 Cases
Punjab 442,950 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,626 Cases
KP 179,928 Cases

امریکی فوج کے ترجمان نے بمبار طیارے بی 52 کی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے پیغام دیا ہے کہ ہم دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں امریکی جنگی استطاعت اس قابل ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے دشمنوں تک پہنچ سکتی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نیوکلیئر بم کے حامل جنگی بیڑے ایرانی گلف کی فضاؤں میں محو پرواز ہیں۔

یہ بدھ کے روز کی بات ہے کہ جب لزانیہ میں برکس ڈیل ایئر فورس کی بیس سے امریکی بمبار طیارے اڑے اور سیدھا ایرانی گلف کی پٹی میں جا پہنچے۔

بمبار طیارے کی اڑان کے اس مشن میں یو ایس نیوی اور یو ایس میرین کے ساتھ سعودی ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے بھی معاونت اختیار کی۔

ہفتہ کے روز یو ایس آرمی کی سینٹرل کمانڈ کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے دو بی 52 بمبار طیارے ایرانی سرحد کے پاس گلف کی فضاؤں میں محو پرواز ہیں۔

ان دو جنگی بیڑوں سمیت سعودی جنگی طیارے مل کر کل چار جنگی جہاز اس مشن پر موجود تھے۔

یو ایس سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اتحادیوں کی قوت میں اضافہ کرنااور اپنی فضائی قوت کا مظاہرہ کرنا تھا کہ ہم کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔

جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس ویڈیو اور اپنے پیغام میں ایران کے نام کسی بھی قسم کے پیغام کی بات نہیں کی۔

تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ یہ پرواز ایک طرح سے ایران کے لیے وارننگ تھی کہ اگر اس نے کسی قسم کی حرکت کی تو امریکہ اس تک بڑی آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ کے دور حکومت میں اس بات سے متعلق کئی بار دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ ایران پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے دور حکومت کے آخری دنوں میں بھی قریباً دو مرتبہ یہ جنگی بیڑہ بی 52 ایران کی طرف محو پرواز ہوا تھا مگر جنگ کے کئی مواقع ہونے کے باوجود بھی امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی جرات نہیں کی۔

تاہم اب جوبائیڈن کے دور حکومت میں بھی ایران اور امرکہ کے تعلقات بہتری کی طرف جاتے دکھائے نہیں دیتے اور خاص طور پر حالیہ بی 52 بمبار طیارے کی ایرانی سرحد میں موجودگی کے حوالے سے تو اس تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے کہ جلد یا بدیر ایران اور امریکہ کی جنگ ہر حال میں ہو گی۔