Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,189 303
DEATHS 28,709 5
Sindh 475,248 Cases
Punjab 442,950 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,626 Cases
KP 179,928 Cases

روس میں پولیس نے حزب اختلاف کے گرفتار رہ نما الیکسی نوالنی کے حق میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں 34 سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

روس کے علاقے سائبیریا کے بعض شہروں میں منفی 50 ڈگری سینیٹی گریڈ کے باوجود نوالنی کے حامیوں نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا ہے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دارالحکومت ماسکو میں ہفتے کے روز قریباً 15 ہزار افراد نے پشکین چوک میں جمع ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔ پولیس نے احتجاجی ریلی میں شریک نوالنی کی اہلیہ یولیا سمیت سینکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس نے ماسکو کے وسط میں واقع پشکین اسکوائر میں جمع ہونے والے مظاہرین کو لاٹھی چارج کرکے منتشر کردیا تھا۔ اس کے بعد مظاہرین نے وہاں سے ایک کلومیٹر دور واقع ایک اور جگہ پر جمع ہوکر احتجاج شروع کردیا۔ انھوں نے ماسکو کی جیل کے باہر بھی احتجاج کیا ہے جہاں نوالنی کو قید کیا گیا ہے۔

ماسکو میں احتجاج میں شریک ایک شہری آندرے گورکیوف کا کہنا تھا کہ 'صورت حال بدترسے بدترین ہوتی جارہی ہے،یہ مکمل لاقانونیت ہے۔ اگر اب ہم خاموش رہتے ہیں تو پھر یہ صورت حال ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گی۔'

روس میں سیاسی گرفتاریوں پر نظر رکھنے والے او وی ڈی انفوگروپ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ماسکو میں 941 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں 350 افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اس شہر میں بھی بڑی تعداد میں روسیوں نے نوالنی کے حق میں اور حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔ مجموعی طور پر روس کے قریباً 90 شہروں سے 3454 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نوالنی کے حامیوں نے آئندہ اختتام ہفتہ پر بھی روسی شہریوں سے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ 44 سالہ نوالنی کو 17 جنوری کو جرمنی سے ماسکو واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ وہاں وہ اعصابی ایجنٹ کے حملے کے بعد پانچ ماہ تک زیر علاج رہے تھے۔ انھوں اور ان کے حامیوں نے کریملن پر اعصابی زہریلے مواد سے حملے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ روسی حکام نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

الیکسی نوالنی صدر ولادی میر پوتن کے سخت ناقد ہیں۔ وہ ان پر بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد کرچکے ہیں اور حکومت کی بدعنوانیوں کو اپنی رپورٹس کے ذریعے منظرعام پر لاچکے ہیں۔

ایک تحقیقاتی ویب سائٹ بیلنگ کیٹ کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حزبِ اختلاف کے لیڈر ایلکسی نوالنی کو زہرخورانی میں روس کی انٹیلی جنس ایجنسی ایف ایس بی کے اہلکار ملوّث تھے۔ نوالنی کو گذشتہ سال اگست میں مبیّنہ طور ہر سوویت ساختہ اعصابی ایجنٹ نوفیچوک سے ہدف بنایا گیا تھا۔

لیکن صدرمیر پوتین نے دسمبر میں اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا اورکہا تھا کہ اگر روس کی سیکیورٹی سروسز نوالنی کو زہر دینا چاہتیں تو وہ یہ کام کب کا پایہ تکمیل کو پہنچا سکتی تھیں۔