Aaj.tv Logo

جنوبی کوریا کی پولیس کی جانب سے کسینو سے ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر چرانے والی شاطر خاتون کی تلاش جاری ہے۔

عالمی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے مشہور جیجو ریزورٹ کے ایک کسینو میں خاتون ایگزیکوٹ نے ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی چوری کی جس کے بعد وہ ایسی غائب ہوئیں کہ ان کو تلاش کرنا پولیس کے لیے مشکل ہوگیا ہے۔

ہانگ کانگ میں مقیم لینڈنگ انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ لمیٹڈ جو جیجو شنہوا ورلڈ ریزورٹ کو چلاتی ہے، انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ’چوری کرنے والی خاتون جو کہ کیسینو کی انچارج تھیں ہم ان تک نہیں پہنچ سکے۔‘

اس حوالے سے جیجو صوبائی پولیس ایجنسی نے یقین دہانی کرائی کہ ’واقعے کی تحقیقات انسداد کرپشن ٹیم کے تحت جاری ہیں تاہم مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔‘

جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ’کیسینو کی فنڈ انچارج ملائیشیا کی شہری تھیں جو دسمبر کے آخر میں چھٹیوں پر جانے کے بعد واپس نہیں کام پر نہیں آئیں۔‘

رپورٹ میں بتایا گیا کہ غائب کی جانے والی نقد رقم جس کا وزن تقریباً 280 کلوگرام ہے وہ ایک شخص کے لیے باہر لے جانا بہت بھاری اور خاصا مشکل ہوگا۔

یونہیپ کے مطابق پولیس نے کسینو سے نگرانی کرنے والے سکیورٹی کیمروں سے ویڈیو حاصل کرنے کی کوشش کی مگر پیسے غائب ہونے کی فوٹیج حذف کردی گئی۔

خیال رہے کہ جنوبی کوریا کے جنوبی ساحل سے دور جزیرہ جیجو ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جو غیر ممالک کے جوئے بازی کے اڈوں پر مشتمل ہے۔ تاہم ہانگ کانگ میں لینڈنگ کمپنی کے شیئرز منگل کو واقعے سے قبل ہی 7.6 فیصد سے کم ہو کر 6.4 فیصد پر آگئے تھے۔