Aaj TV News

BR100 4,644 Decreased By ▼ -89 (-1.89%)
BR30 20,295 Decreased By ▼ -45 (-0.22%)
KSE100 45,341 Decreased By ▼ -203 (-0.45%)
KSE30 17,728 Decreased By ▼ -83 (-0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,269,806 572
DEATHS 28,392 6
Sindh 468,164 Cases
Punjab 439,307 Cases
Balochistan 33,204 Cases
Islamabad 106,749 Cases
KP 177,553 Cases

کورونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جان لیوا پیچیدگیوں پر متعدد تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں، مگر ان میں سے بیشتر محدود تھیں۔

اب اس حوالے سے ایک جامع تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں امریکا کے 70 ہزار سے زیادہ کووڈ کیسز کے ذریعے ان پیچیدگیوں کی تصدیق کی گئی، جن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

طبی جریدے کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع تحقیق میں کووڈ 19 کی تمام ممکنہ پیچیدگیوں کا تعین کیا گیا۔

محققین کا مقصد وبا کے دوران رپورٹ کی جانے والی پیچیدگیوں کی تصدیق کرنا تھا، یعنی طبی مسائل کا خطرہ کووڈ کے مریضوں کو سب سے زیادہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں کووڈ 19 سے جڑے تمام تر خطرات کا تخمینہ فراہم کیا گیا ہے، جس سے ہم طبی ماہرین، مریضوں اور پالیسی سازوں کو تمام تر پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق میں بوفیلو یونیورسٹی کے جیکبس اسکول آف میڈیسین اینڈ بائیولوجیکل سائنسز، ٹورنٹو یونیورسٹی اور ہیلتھ ورایٹی انکارپورشن کے محققین نے مل کر کام کیا۔

تحقیق کے لیے یکم مارچ سے 30 اپریل 2020 تک کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے 70 ہزار 288 مریضوں کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔

محققین نے ان افراد کے ڈیٹا کو 3 حصوں میں تقسیم کیا، ایک گروپ ایسے مریضوں کا تھا جن کا علاج تو ہوا مگر ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔

دوسرا گروپ ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے افراد کا تھا، جبکہ تیسرا ایسے مریضوں کا تھا جن کو آئی سی یو میں داخل کیا گیا۔

70 ہزار 288 میں سے 53.4 فیصد وہ لوگ تھے جو ہسپتال میں زیرعلاج رہے، جن میں آئی سی یو میں داخل ہونے والوں کی تعداد 4.7 تھی۔

باقی 46.6 فیصد پہلے گروپ میں شامل افراد تھے، مجموعی طور پر 55.8 فیصد خواتین تھیں اور اوسط عمر 65 سال تھی۔

محققین نے بیس لائن پیریڈ (کووڈ کی تشخیص سے 30 سے 120 دن قبل) اور ہیزرڈ پیریڈ (تشخیص سے 7 دن قبل سے 30 دن بعد تک) کو تشکیل دیا۔

بیس لائن پیریڈ کو یہ شناخت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا کہ مریض کووڈ 19 سے پہلے کسی دائمی بیماری کا شکار تو نہیں تھے۔

ان دونوں پیریڈ کا موازنہ کرنے سے دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کے بعد مریض کو کن پیچیدگیوں کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

محققین نے تمام تر پہلوؤں کا تجزیہ کرنے کے بعد کووڈ 19 یا اس کے علاج سے لاحق ہونے والی پیچیدگیوں کے امکانات اور مجموعی خطرات کا تعین کیا۔

تجزیے میں ماضی کی طبی تحقیقی رپورٹس میں بتائی جانے والی متعدد پیچیدگیوں کی تصدیق کی گئی، جن کو سب سے عام قرار دیا گیا۔

تحقیق کے مطابق درج ذیل پیچیدگیاں کووڈ 19 سے ٹھوس انداز سے منسلک ہوسکتی ہیں:

نظام تنفس کے مسائل جیسے نمونیا، اکیوٹ ریسیپریٹری ڈس ٹریس سینڈروم (اے آر ڈی ایس)، اکیوٹ لوئر ریسیپریٹری انفیکشن، ریسیپریٹری فیلیئر، پھیپھڑوں کے پردے میں ہوا کا بھرجانا (pneumothorax)، گردشی نظام کے مسائل، کارڈیک اریسٹ، اکیوٹ مائیو کار ڈائی ٹس (دل کے پٹھوں کا ورم)، ہیماٹولوجک ڈس آرڈرز، جیسے disseminated intravascular coagulation، گردوں کے مسائل، اکیوٹ کڈنی فیلیئر، سونگھنے اور چکھنے کی حسوں کے مسائل، یہ مسائل عام (یا ہائی رسک) ہیں۔

جو مسائل کووڈ 19 کے مریضوں میں سب سے عام ہوتی ہیں وہ درج ذیل ہیں :

نمونیا: یہ مجموعی طور پر 27.6 فیصد مریضوں میں دیکھا گیا اور آئی سی یو میں داخل افراد میں اس کی شرح 81 فیصد تھی۔

ریسیپریٹری فیلیئر: یہ مجموعی طور پر 22.6 فیصد مریضوں میں دیکھنے میں آیا اور آئی سی یو میں داخل 50.7 فیصد افراد کو اس کا سامنا ہوا۔

اکیوٹ کڈنی فیلیئر: یہ مجموعی طور پر 11.8 فیصد کیسز جبکہ آئی سی یو میں داخل 50.7 فیصد افراد میں نظر آنے والی پیچیدگی ہے۔

عفونت: یہ 10.4 فیصد مجموعی کیسز میں نظر آنے والی پیچیدگی ہے جبکہ آئی سی یو میں داخل 54.1 فیصد افراد میں اس کی تشخیص ہوئی۔

یعنی سب سے زیادہ عام پیچیدگیوں میں وائرل نمونیا، ریسیپریٹری فیلیئر، عفونت، گردوں کے مسائل اور اے آر ڈی ایس شامل ہیں۔

حیران کن طور پر اس تحقیق میں یہ دریافت نہیں ہوا کہ کووڈ 19 سے فالج کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے، جس کا عندیہ ماضی کی تحقیقی رپورٹ میں دیا گیا تھا۔

محققین نے واضح کیا کہ ان کا ڈیٹا اور تجزیہ کسی حد تک محدود ہوسکتا ہے، جیسے کچھ پیچیدگیاں بذات خود کووڈ 19 کی بجائے اس کے علاج کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق ابھی تحقیق کو ابتدائی طور پر جاری کیا گیا ہے، یعنی اس میں مستقبل قریب میں کچھ تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں۔