Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 324,744 667
DEATHS 6,692 19

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد پاک فوج نے بھی محکمانہ انکوائری کے بعد ایکشن لیا تھا جس کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔

پاک فوج کی جانب سے بریگیڈیئر سمیت 15 افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی، فوج کی کورٹ آف انکوائری نے تحقیقات کے بعد برگیڈیئر مدثراعظم کو ترقی نہ دینےاور ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت نہ دینے کے احکامات جاری کیے، جبکہ میجر سمیت پانچ اہلکاروں کو فوج سے برطرف کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کرنل مظفرالدین، کرنل حضرت بلال کی حساس مقامات پر تعیناتی نہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئیں۔ جبکہ حوالدار منظر حسین، سپاہی محمد عثمان، سپاہی محمد عدنان، احسان اللہ، احسن نواز اور سعود اعظم کو اٹھائیس، اٹھائیس دن قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

واضح رہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول سیکیورٹی ناکامی قرار دیا گیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پرعدالتی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ بھی پبلک کردی گئی ہے۔

پانچ سو پچیس صفحات پر مشتمل رپورٹ میں اسکول کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے گئے جبکہ دھمکیوں کے بعد سیکیورٹی گارڈ کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے ہمارے سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، سیکیورٹی پر تعینات اہلکار نہ صرف آنے والے حملہ آوروں کو روکنے کیلئے ناکافی تھے بلکہ ان کی پوزیشن بھی درست نہیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی کی تمام توجہ مین گیٹ پر تھی جبکہ اسکول کے پچھلےحصے پر کوئی سیکیورٹی نہیں تھی، پچھلے گیٹ سے دہشتگرد بغیر کسی مزاحمت کے اسکول میں داخل ہوئے، سیکیورٹی پر مامور گارڈز کی صلاحیت دہشتگردوں کو روکنے کیلئے ناکافی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان سے دہشتگرد ممکنہ طور پر مہاجرین کے روپ میں داخل ہوئے، سیکیورٹی اہلکاروں کو دھوکا دینے کیلئے گاڑی کو آگ لگائی گئی، گشت پر مامور سیکیورٹی اہلکارجلائی گئی گاڑی کی جانب چلے گئے، جبکہ فورسز کا دوسرا دستہ بروقت اسکول نہ پہنچ سکا۔

رپورٹ کی فائنڈنگز میں کہا گیا کہ غداری سے سکیورٹی پر سمجھوتہ ہوا، جس سے دہشتگردوں کا منصوبہ کامیاب ہوا, اپنا ہی خون غداری کر جائے تو نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں. دہشت گردوں کو مقامی آبادی کی طرف سےمدد فراہم کی گئی جو ناقابلِ معافی جرم ہے، کوئی ایجنسی ایسے حملوں کا تدارک نہیں کرسکتی بالخصوص جب دشمن اندر سے ہو ۔