Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 324,744 667
DEATHS 6,692 19

ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے کہا ہےکہ آرمی چیف سے محمد زبیر نے 2 ملاقاتیں کیں، اور دونوں ملاقاتیں محمد زبیر کی درخواست پر ہوئیں۔ دونوں ملاقاتیں نوازشریف اور مریم نواز کے حوالے سے ہی تھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا لیگل معاملات عدالتوں سے ہی حل ہوں گے، دونوں ملاقاتیں نوازشریف اور مریم نواز کے حوالے سے ہی تھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکا کہنا تھا کہ بتادیا گیا کہ سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں ہی حل ہوں گے، ملاقاتوں میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک تھے۔ پہلی ملاقات اگست کے آخری ہفتے میں ہوئی، جبکہ دوسری ملاقات 7 ستمبر کو ہوئی۔

پہلے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدرمریم نواز نے نوازشریف کے کسی نمائندے کی آرمی چیف سے ملاقات کی تردید کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مریم نوازنے صحافیوں سے غیررسمی گفتگومیں کہاکہ نوازشریف دل کے عاضے میں مبتلا ہیں جذبے کوکوئی بیماری نہیں نوازشریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہےتاہم کورونا وبا کے خاتمے تک آپریشن نہیں ہوسکتا ، نوازشریف کی قوت مدافع کمزورہے تاہم ادویات سے علاج جاری ہے ۔

نائب صدر ن لیگ مریم نواز نے نوازشریف کے کسی نمائندہ کی آرمی چیف سے ملاقات کی تردید کی۔

پارلیمنٹیرین کی عسکری قیادت سے ملاقات کے سوال پرمریم نواز بولیں کہ وہ اس طرح کی ملاقات کی حق میں نہیں ،دھاندلی الیکشن سے تین ماہ پہلے ہوچکی تھی۔

عسکری قیادت کے عشائیہ سے متعلق سوال پرمریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈنرہوا یا نہیں اس کا کوئی علم نہیں تاہم سیاسی قیادت کوبھی نہیں جانا چاہیئے،سیاسی معاملات سیاسی قیادت کوحل کرنے دیں سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں ہی زیربحث آنے چاہئیں۔

حکومت سے صلح کے سوال پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ ظلم وجبرکے ہتھکنڈے ایک حد تک چلتے ہیں گرفتاریاں ہوں یا جو بھی ہو اے پی سی نے لائحہ عمل دے دیا۔

ش لیگ بنانے کے سوال پرمریم نواز نے کہاکہ شہبازشریف بہت وفا داربھائی ہیں،وہ کبھی علیحدہ نہیں ہونگیں شہبازشریف نے اگرعلیحدہ ہونا ہوتا توآج وزیراعظم ہوتے شہبازشریف نے وزارت عظمی پربھائی کوترجیح دی۔