Aaj TV News

BR100 4,334 Decreased By ▼ -12 (-0.28%)
BR30 22,002 Decreased By ▼ -81 (-0.37%)
KSE100 41,701 Decreased By ▼ -105 (-0.25%)
KSE30 17,606 Decreased By ▼ -53 (-0.3%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 309,581 566
DEATHS 6,451 7

کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان ہے ،لواحقین کو انصاف ملنے کی امید ہے۔

کراچی میں سانحہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس کا فیصلہ آج انسداد دہشتگردی عدالت سنائے گی،لواحقین کو انصاف ملنے کی امید ہے،2012میں بلدیہ کی گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگا کر 259افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔

آگ تیزی سے پھیل چکی تھی،ہر طرف چیخ وپکار آہ بکا لیکن مسلسل رابطے کے باوجود فائر بریگیڈ نہیں پہنچی، فیکٹری ملازم جنید نے خود ہی دوڑ لگائی،فائربریگیڈ لے تو آیا مگر ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکاتھااور250انسان جل کرخاک ہوچکے تھے۔

بھتہ نہ دینے کی اِتنی بڑی سزا کہ 259زندگورں کا خاتمہ ستم بالائےستم یہ کہ ایم کویایم کارکنوں نے فیکٹری مالکان کومزدوروں کی نمازجنازہ سے دھکے دے کرنکال دیا، ارشد بھائلہ نے 19ستمبر 2019کو ویڈیو لنک کے ذریعے بہت سے رازوں سے پردہ اُٹھایا۔

انکشاف کیا گیا کہ ملازم زبیرچریا نے فیکٹری میں ایم کیو ایم کا اثرورسوخ بڑھادیا تھا، پوری فیکٹری ایم کیو ایم کارکنوں کے کنٹرول میں آچکی تھی ،بلدیہ سیکٹر کی مالی سپورٹ کیلئے فیکٹری سے لاکھوں مالیت کا ویسٹیج فریال بیگ نامی شخص لےجاتا تھا، ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ جانے لگا۔

لالچ بڑھتی گئی اور پھر جون 2012 میں سکٹر انچارج ماجد بیگ نے کروڑوں روپے بھتے کا مطالبہ کردیا، یہیں سے بات بگڑی، عبدالرحمان بھولا سمیت ایم کیو ایم تنظی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کےنام بھی سامنےآئے ۔

حد تو یہ تھی کہ متاثرین کو چھ کروڑ کے لگ بھگ معاوضے کی رقم تک ہڑپ لی گئی، سی پی ایل سی کے سابق سربراہ احمد چنائے کے ذریعے گورنر ہاؤس سے پیغام بھیجا گیا کہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متاثرین کومعاوضہ دیاجائے تو معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔

فیکٹری مالکان پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ بھتےکاذکرنہ کاٹ جائے، دھمکیاں بھی دی گئیں اور بالآخر مالکان کو جان بچانے کلئے ملک چھوڑ کر جاناپڑا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پرعدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر8 سال بعد ملزمان کیخلاف سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔