Aaj TV News

BR100 4,355 Decreased By ▼ -5 (-0.12%)
BR30 22,224 Increased By ▲ 12 (0.06%)
KSE100 41,876 Increased By ▲ 47 (0.11%)
KSE30 17,674 Decreased By ▼ -23 (-0.13%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 307,418 532
DEATHS 6,432 8

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا معاملہ صرف سندھ بللڈنگ کنٹرول اتھارٹی تک محدود نہیں ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر گلشن اقبال کی ریلوے سوسائٹی میں زیر تعمیر ایک کثیرالمنزلہ عمارت کے بڑے چرچے ہیں۔

یہ عمارت مکمل طور پر غیرقانونی ہے اور ساتھ ہی تعمیر میں کسی قسم کے اصول اور ضابطے کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا جارہا۔ مگر ریلوے کا محکمہ خاموش ہے۔

شہری سوشل میڈیا پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اور عمارت روز بروز بلند سے بلند تر ہوتی جاری ہے جبکہ بلڈنگ کنٹرول حکام کا کہنا ہے ہمارا عمارت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ ریلوے کی زمین ہے اور وہ ہی اس حوالے کچھ کرسکتے ہیں۔ اب ریلوے والے کسی حادثے کا انتظار کریں گے یا پھر پہلے بھی کوئی کاروائی ممکن ہے؟

enter image description here
enter image description here

کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد گنجان آباد علاقوں میں نئی اور بہت سی پرانی عمارتیں رہائشیوں کیلئے خطرناک ہوچکی ہیں۔

گزشتہ برس خطرناک قرار دی جانے والی 422 عمارتوں کا معاملہ ہی ابھی کسی کروٹ نہیں بیٹھا کہ مزید عمارتیں بھی گرنے کے خطرے سے دوچار ہونے لگی ہیں۔ لیاری میں پانچ منزلہ عمارت کے بعد لیاقت آباد سی وون ایریا میں بھی ایک چار منزلہ عمارت کو جھکاؤ کے باعث خطرناک قرار دے کر مکینوں سے خالی کرالیا گیا ہے۔

عمارت تین منزلہ تھی لیکن مالک نے بلڈنگ کنٹرول کے عملے ساز باز کرکے چوتھی منزل کرلی اور یہی منزل عمارت میں دراڑوں اور جھکاؤ کا باعث بن گئی۔

enter image description here
enter image description here

محکمہ بلدیات میں 7 ماہ سے شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے انکوائری بلآخر مکمل ہوگئی جس میں چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔

شہر کی کچی آبادیوں میں 97 ہزار غیرقانونی تعمیرات کا انکشاف حیران کن بھی ہے اور پریشان کن بھی۔

رپورٹ کے مطابق شہر میں جا بجا ہونے والی غیرقانونی تعمیرات پر ایک کھرب روپے خرچ ہوئے ہیں۔

جنوری 2017 سے جنوری 2020 تک شہر میں غیرقانونی تعمیرات سے سرکاری خزانے کو 27 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 100 سے زائد افسران اور ملازمین بھی ملوث ہیں جنہیں اس کام کیلئے مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 2 ارب روپے رشوت دی گئی۔

انکوائری رپورٹس میں ایس بی سی اے کے 10 سینئر ڈائیرکٹرز کو بھی ملوث قرار دیا گیا ہے۔ اور 5 افسران کو ملازمت سے فراغت سمیت مختلف سزائیں تجویز کی گئی ہیں اب دیکھیں سندھ حکومت کیا کاروائی کرتی ہے؟

تحریر :کاشف فاروقی

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔