Aaj TV News

BR100 4,355 Decreased By ▼ -5 (-0.12%)
BR30 22,224 Increased By ▲ 12 (0.06%)
KSE100 41,876 Increased By ▲ 47 (0.11%)
KSE30 17,674 Decreased By ▼ -23 (-0.13%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 307,418 532
DEATHS 6,432 8

پاک بحریہ اور اس پاک دھرتی کے باسیوں کا 73 سالہ انمول تعلق ہے ۔ جوں جوں مشکل گھڑی آن پڑی یہ تعلق نئی جہتوں سے ہمکنار ہوا۔ زلزلہ ہو یا طوفان ، بارشیں ہوں یا سیلاب ۔ ہر ایک آزمائش نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ پاک فوج ہمیشہ قوم کی توقعات پر پورا اُتری۔ کبھی مایوس نہیں کیا۔ کبھی ہز ہمت کاسامنانہ ہوا۔

بحری سرحدوں کو نا قابل تسخیر بنانا تو لازم تھا اور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ قوم کے غم ، دکھ ، درد میں شریک ہونا پاک بحریہ کا خاصا ہے۔بارشوں اور سیلاب میں کشتیاں اور امدادی ٹیمیں مدد کو آ پہنچتی ہیں۔زلزلوں میں ریسکیوٹیمیں فوری حرکت میں آتی ہیں۔ خشک سالی میں ہزاروں ٹن صاف پانی سے بھرے دیوہیکل جہازساحل پر لنگر انداز نظر آتے ہیں۔

علم کی روشنی پھیلانے ،صحت کو یقینی بنانے اور خوشحالی و ترقی کی طرف قدم بڑھانے میں پاک بحریہ قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ اس کی کاوشوں کا سلسلہ کبھی نہ رکا۔ ہر عہد میں پر عزم ہو کر ترقی و خوشحالی کی راہیں ہموار کیں۔ ملکی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی خدمات انجام دیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو خصوصی توجہ دی اور بلوچ عوام کو قومی دھارنے اور ترقی میں لانے کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں۔

انیس سو اٹھاون میں جب گوادر پاکستان کا حصہ بنا تو پاک بحریہ ہی وہ فورس تھی جس نے گوادر میںسبزہلالی پرچم کے تحفظ اور نگہبانی کی ذمہ دار ی سنبھالی ۔ گوادر اور ساحلی علاقوں کی ترقی کے منصوبے بنائے ، سکیورٹی کا خیال رکھا اور ساحلی علاقوں کے مکینوں میں وطن پرستی کے جذبے کو اجاگر کیا اور انھیں مو ثر پاکستانی بنانے میں کردار ادا کیا۔ پاک بحریہ کے پاس وسائل تو محدود ہیں لیکن اس کی خدمات کا سلسلہ کبھی نہ تھما۔ بحری امن قومی خوشحالی اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے پاک بحریہ نے عالمی کاوشوں میں اپنا کردار موثر انداز سے ادا کیا

۔ کئی ممالک پر مشتمل ٹاسک فورسز 150 اور 151 میں شرکت کر کے عالمی بحری امن کو یقینی بنایا ۔ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بحری امن کا قیام کے صمیم عزم تو دیکھتے ہوئے عالمی افواج پر مشتمل ان فورسز کی متعدد مرتبہ کمانڈ پاک بحریہ کے سپرد کی گئی جو کہ خطے کی کسی بھی بحری فوج کا منفرد اعزازہے۔پاک بحریہ کے اس کردار سے جہاں ملکی اقتصادیات میں اضافہ ہوا وہاں صوبہ بلوچستان کی ترقی کی راہیں بھی ہموار ہوئی۔

پاک بحریہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی حکومت پاکستان کے ساتھ ملک کر اقوام متحدہ میں پاکستان کے کونٹینینٹل شلیف میں اضافے کا کیس لڑا۔ جسے چھ سالوں کی پیروی کے بعد سال 2015 میں کامیابی حاصل ہوئی اور اس طرح پاکستان کے کونٹینینٹل شلیف میں 50 ہزار مربع کلو میٹرکا اضافہ ہوا۔ اس کا میابی کے بعد پاکستان مزید 50 ہزارمربع کلو میٹر زیر سمندر وسائل کی تلاش ، سائنسی تحقیقی اور بحری خزائن کے استعمال کاحقدار ہو گیا۔

سال 2010 میں بیشتر سمندری علاقوں کو بحری قزاقی کے سلسلے میں انتہائی خطر ناک قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات یاد رہے کہ پاک بحریہ کی موثر نگرانی کی وجہ سے پاکستان کے سمندری علاقوں میں کبھی بھی بحری قزاقی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس کے علاوہ میری ٹائم سکیورٹی کے لیے عالمی سطح پر پاک بحریہ کی خدمات کو بھی قدر کے نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

حکومت پاکستان کی کاوشوں اور پاک بحریہ کی عالمی ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن نبھا نے کی وجہ سے پاکستان کے سمندری علاقے کو سال 2015 میں بحری قزاقی کے خطرناک علاقے سے پاک قرار دیا گیا۔ماضی قریب میں میری ٹائم سکیورٹی پٹرول کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد بحرہند اور ملحقہ سمندروں میں گشت کے ذریعے بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی کے مضموم عزائم کو نا کام بنا نا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاک بحریہ کا ایک بحری جنگی جہاز ہر وقت گشت پر مامور رہتا ہے۔ اس اقدام سے قومی معیشت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ تجارتی بحری راستوں کو محفوظ بنا کر خوشحالی اور ترقی کے سفر کی رفتار میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔

سی پیک اور گوادر بندرگاہ ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ بندرگاہ کی سمندری سکیورٹی کے لیے بحریہ نے ایک خصوصی ٹاسک فورس بنائی ہے جو چوکس و چوکنارہ کر سکیورٹی کو چوبیس گھنٹے یقینی بنا رہی ہے۔ بلو چستان اور خصوصا ًگوادر کی ترقی سی پیک منصوبے کی مکمل فعالیت سے جڑی ہوئی ہے اور اس منصوبے کی کامیابی میں گوادر بندر گاہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

ساحلی علاقوں کی اکثر آبادی کا وسیلہءروز گار ماہی گیری ہے۔ ماہی گیر عرصے سے اس شعبے سے منسلک ہیں جن کو کئی طرح کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مشکلات میں کمی لانے کے لیے پاک بحریہ ماہی گیروں کے ساتھ قریبی روابط استوار کئے ہوئے ہے۔ ان کو جدید طریقہ ماہی گیری ، سمندری صورت حال کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو صحت اور تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بھی آگہی فراہم کی جاتی ہے ۔سمندر میں کسی بھی مصیبت میں گرفتار افراد کی مدد کے لیے خصوصی طور پر جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن اینڈکورڈینیشن سنٹرقائم کیا گیا۔سمندر سے موبائل کے ذریعے رابطہ کرنے کے لیے آس (AAAS)کے نام سے موبائل ایپ کو لانچ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہی گیروں کے لیے صحت مندانہ سر گرہوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ جن میں کشتی رانی کے مقابلے ، فٹ بال اور والی بال کے مقابلے اور واکز وغیرہ شامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کی بات کی جائے تو پاک بحریہ اس سلسلہ میں صوبہ بلوچستان کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اور ماڑہ میں 100بستروں پرمشتمل جدید ہسپتا ل بنایا گیا جسمیں علاج معالجے اور تشخیص کی تمام ضروریات کی دستیابی کو ممکن بنایاگیا۔مقامی افراد کو ہسپتال میں بطور عملہ بھرتی کر کے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے گئے۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جہاں مستحق مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور انہیں مفت ادویات دی جاتی ہیں۔ شدید مرض میں مبتلا مریضوں کوپاک بحریہ کے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔بلو چستان کی عوام کو روزگار کی فراہمی کی غرض سے بلوچ نوجوانوں کو نیوی میں بھرتی کرنے کے لیے ان کو خصوصی رعائتیں دی گئی ہیں۔

پاک بحریہ کے اسکولز وکالجزساحلی آبادی کو علم کی دولت سے روشناس کرانے میں مصروف عمل ہیں۔ان ا سکولز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسکول کے اساتذہ کو خصوصی تربیت دینے کے لئے پاکستان نیوی ایجو کیشنل ٹرسٹ بہترین تربیتی سہولیات فراہم کرتا ہے۔مقامی اساتذہ خصوصاً خواتین اساتذہ کو بھرتی کیا گیاہے۔ کیڈٹ کالج اورماڑہ ، اورماڑہ کابے مثال تعلیمی ادارہ ہے جہاں بلوچ نوجوان کو تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

مذکورہ بالا خدمات ، پاک بحریہ کی چیدہ چیدہ خدمات ہیں جو کہ صوبہ بلوچستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کےلئے احسن اقدامات ہیں ۔ اسی جذبہ خدمت کے نتیجے میں پاک بحریہ اور عوام الناس کے مابین موجود تعلق روزافزوں مضبوط اور گہرا ہوتا جا رہا ہے جوکہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ اس قوم کو ترقی کے منزل کے حصول سے کوئی مشکل، کوئی رکاوٹ دور نہیں رکھ سکتی ۔

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔