Aaj TV News

BR100 4,355 Decreased By ▼ -5 (-0.12%)
BR30 22,224 Increased By ▲ 12 (0.06%)
KSE100 41,876 Increased By ▲ 47 (0.11%)
KSE30 17,674 Decreased By ▼ -23 (-0.13%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 307,418 532
DEATHS 6,432 8

تاریخ شاہد ہے کہ جیسے جیسے انسانی خیالات حالات و واقعات پر غیر مؤثر ہوتے جاتے ہیں نئے خیالات جنم لیتے ہیں اور پرانوں کی جگہ لےلیتے ہیں۔ بغض اوقات کچھ خیالات وقت سے پہلے متعارف کرادیے جاتے ہیں لیکن نافذ العمل وہ تب ہی ہوتے ہیں جب ان کے لئے میدان ہموار ہوتا ہے۔ 'جمہوریت' اس کی سب سے بڑی اور اہم مثال ہے۔ ڈھائی ہزار برس قلب قدیم یونان میں متعارف کرایا گیاایک خیال جو اس وقت تو بادشاہت کے آگے نہ کھڑا ہوسکا لیکن دوہزار سال بعد اسی نظامِ بادشاہت نے ایسے حالات پیدا کردیے کہ یہ سیاسی فکر پھر ابھری اور نکھرتی ہی چلی گئی۔ 20ویں صدی میں انتہاء یہ تھی کہ عالمی تنظیمیں وجود میں آئیں جو دنیا کے ممالک میں جمہوریت کی پہرہ داری کرنے لگیں۔

جدید جمہوریت کی ماں برطانیہ کو کہا جاتا ہے لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا اس کا علمبردار بن کر سامنے آیا اور وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں جمہوریت ہی ترقی کا راز ہے اور بہترین انتقام ہے جیسے بیانیوں کو پھلایا گیا مگر شاید دنیا کے عظیم دماغ بھی اس بات کو بھلا بیٹھے کہ عموماًانسانی تصور کی ایک مخصوص عمر ہوتی ہے اور وقت آنے پر وہ غیر مؤثر ہو کربوڑھے شیر کی طرح ایک کچھار میں بیٹھ جاتا ہے اور جنگل پر کوئی اور راج کرتا ہے۔

جنگِ عظیم دوم کے بعد جمہوریت کا پروان چڑھنا جمہوری نظریے کا کمال نہیں بلکہ اس وقت پنپتے معاشی نظام یعنی سرمایہ دارانہ نظام کی مرہونِ منت تھا۔ اگرچہ فطرتاً دونوں نظام ایک دوسرے سے تضاد رکھتے ہیں لیکن جنگ کے بعد چونکہ ایک نئی دنیا کی بنیاد پڑی تھی جوخالصتاً کیپٹل ازم پر تھی، اس لئے جمہوریت اس کے پیر مضبوط کرنے کا ایک بہانہ تھا اور ساتھ ہی انفرادی آزادی اور انسانسی حقوق کو یقینی بنانے والے ایسے ادارے وجود میں آتے رہے جو رہے تو جمہوریت کے سائے میں لیکن کاروبار معاشی نظام کا چلاتا رہا۔

طویل سرد جنگ ہوئی جس میں دنیا کی آئیڈل جمہوریت یعنی امریکا نے ایک ملک کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والی ملٹری قیادت کے ساتھ مل کر سویت یونین کو تتر بتر کردیااورسرمایہ دارانہ نظام نے اشتراکیت کے بخیے ادھیڑ دیے۔ یہ سب سیاسی سانچے کے بغیر ممکن نہیں تھا اور یہی وہ وقت تھا جب سرمایہ دارانہ نظام جمہوری طرزِ سیاست سے ماورہ ہوگیالیکن اپنے وجود کےلئے مسائل کو موجود رکھنا ضروری تھا اس لئے پھر انفرادی آزادی کو مسئلہ بنا کر افغانستان، عراق، شام، لیبیا، وینوزویلا و دیگر ممالک سے دو دو ہاتھ کرلیے۔

اس عرصے میں چین نے اپنا معاشی ماڈل بدل کر معیشت پر برق رفتاری سے کام کیا جس کا مظہر 2008 کے اولمپکس مقابلےہیں جس میں انہوں 44ارب ڈالرز خرچ کیے جواس وقت ان کی جی ڈی پی کا 0.9 فیصد تھا۔ بہر کیف معاش کی اس دوڑ میں چین تیز دوڑا اور آگے نکلتا ہی چلاگیا ساتھ ہی ارد گرد تیز نگاہیں بھی رکھیں۔

دوسری جانب وقت کے ساتھ ساتھ کیپٹل ازم اور جمہوریت میں دوریاں واضح ہونے لگیں اسی لئے جو آشرباد نصف صدی تک جمہوریت پر تھا اب وہ چین کے ساتھ دِکھ رہا ہے۔ کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام کا عہد کسی سیاسی نظام سے نہیں بلکہ ہر اس چیز سے ہے جو اس کا پہیہ بہتر اور تیزی سے چلاسکے۔گزشتہ دو تین دہائیوں میں چین نے انقلابی کام کیا اور آج بطور ایک نئی طاقت کے ابھر کر سامنے آیا ہے ۔مزید یہ کہ اس تاثر کو ریزہ ریزہ کردیا کہ ترقی، فلاح ، خوشحالی کا تعلق جمہوریت سے۔یہ چیز سیاسی فکر کی سطح پر ایک غیر معمولی تبدیلی ہے،عین ممکن ہے مستقبل قریب میں طرزِ حکمرانی کی بحث ہی ختم ہوجائے یا انتہائی محدود ہوجائے اور مقاصد کا حصول یعنی ترقی، خوشحالی اور فلاح پر مرکوزِ نگاہ ہو۔

پاکستان میں سیاسی اشرافیہ اس حقیقت سےکتنی آشنا ہے وہ ان کے جمہوریت کے متعلق روز کے بیانات بتادیتے ہیں۔ میرےایک استاد کہا کرتے ہیں 'انسانی کے تخلیق کردہ تصورات میں سب سے مضبوط اور پائیدار تصور ریاست کا ہے جو ابھی تک قائم و دائم ہے'۔ اسی لئےجب ریاست اپنےآپ کو درست کرنےکا ذمہ لیتی ہے تو حکمرانی کرنے والے یا اس کا خواب آنکھوں میں سجانے والے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ یہ جس سیاسی نظام کےلئے قربانی کےعزائم دہراتے نہیں تھکتے، کیپٹل ازم نے اس نظام کو بیچ چوراہے پر لاکر ہلال کیا ہے اور خود کو جمہوریت کے بالکل مخالف یعنی چین کے ساتھ نتھی کرلیا ہے۔ باقی جمہوریت کےلئے یہ اپنی جدوجہد اب بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو شوق سے رکھیں ، یہ ان کا' جمہوری حق' ہے۔

تحریر: مہدی قاضی

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہوسکتی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔