Aaj TV News

BR100 4,687 Decreased By ▼ -28 (-0.59%)
BR30 18,641 Decreased By ▼ -617 (-3.2%)
KSE100 45,612 Decreased By ▼ -151 (-0.33%)
KSE30 17,942 Decreased By ▼ -56 (-0.31%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,328,487 4,340
DEATHS 29,019 7
Sindh 502,500 Cases
Punjab 453,392 Cases
Balochistan 33,705 Cases
Islamabad 111,376 Cases
KP 182,311 Cases

ایڈورڈو مارٹنز برازیل کے شہر ساﺅ پاﺅلو کا رہائشی اور بین الاقوامی شہرت کا حامل فوٹوگرافر تھا جو جنگوں کی کوریج کرتا تھا۔ اس نے غزہ، شام اور عراق سمیت کئی ممالک میں جنگجوں کی کوریج کی۔

اس کی بنائی ہوئی تصاویر دنیا کے بڑے اداروں وال اسٹریٹ جرنل، ٹیلیگراف اور بی بی سی و دیگر پر شائع ہوتی رہیں، لیکن اب اس 32 سالہ معروف فوٹوگرافر کے متعلق ایسا ہولناک انکشاف ہوا ہے کہ سن کر یقین نہ آئے کہ کوئی شخص کیسے پوری دنیا کو دھوکہ دے سکتا ہے۔

ویب سائٹ mashable.com کے مطابق کئی جنگی فوٹوگرافرز اور دیگر لوگوں نے شک گزرنے پر تحقیقات کیں جن میں معلوم ہوا ہے کہ ایڈورڈو کی بنائی ہوئی تمام تصاویر جعلی تھیں۔ اس نے کبھی میدان جنگ کا منہ تک نہیں دیکھا اور گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے دوسرے فوٹوگرافر کی تصاویر اٹھا کر ان میں ترامیم کرتا اور گیٹی امیجز، زوما اور نورفوٹو جیسی آن لائن ایجنسیوں کو دے دیتا جہاں سے بڑے بڑے اشاعتی ادارے وہ تصاویر حاصل کرکے شائع کرتے۔

ایڈورڈو پر سب سے پہلے برازیل ہی کے جنگی فوٹوگرافر فرنینڈو کوسٹا نیٹو کو شک گزرا، اس کی ایڈورڈو کے ساتھ دوستی بھی تھی چنانچہ اس نے جب اس سے اس حوالے سے پوچھا تو ایڈورڈو نے اپنے انسٹاگرام سمیت تمام آن لائن اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کر دیئے اور منظرعام سے غائب ہو گیا۔

اس کے غائب ہونے پر ایک اور برازیلین فوٹوگرافر ایگناشو ارونویک نے اس کی تصاویر پر تحقیق شروع کی، جس میں معلوم ہوا کہ ایڈورڈ کی زیادہ تر تصاویر دراصل ترکی میں رہنے والے امریکی فوٹوگرافر ڈینیئل سی بریٹ کی تھیں۔

ایڈورڈ اس کی تصاویر انٹرنیٹ سے اٹھا کر انہیں "فلپ"  (flip)کرتا اور دیگر کانٹ چھانٹ کرکے ایجنسیوں کو دے دیتا تھا۔

ایگنا نے ایڈورڈو کی تصاویر "گوگل امیج سرچ" پر سرچ کیں تو ویسی ہی ڈینیئل کی اصل تصاویر بھی سامنے آ گئیں۔ ان میں زیادہ سے زیادہ فرق یہ تھا کہ ایڈورڈ نے اس کی تصاویر کو الٹ کیا ہوا تھا۔

ایڈورڈ نے اپنی تصاویر کے کیپشنز میں بھی غلط معلومات دے رکھیں تھیں۔ ڈینیئل نے یہ تصاویر کسی اور شہر میں بنائی تھیں لیکن ایڈورڈ نے کسی اور جگہ کا بتا رکھا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ انکشاف سامنے آنے پر کئی اشاعتی اداروں اور ایجنسیوں نے ایڈورڈو کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم وہ اپنے تمام آن لائن اکاﺅنٹس ڈیلیٹ کرکے منظرعام سے غائب ہو چکا ہے۔