Aaj.tv Logo

imrankhnaimage

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک میں سرکاری املاک کی مکمل معلومات حاصل کرنے میں ناکامی کا شکار ہوگئی۔

وزیراعظم عمران خان نے سرکاری املاک کے بارے میں حکومت کو معلومات فراہم نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی۔

وہ کہتے ہیں ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔  کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسی کے تحت قوائد و ضوابط کو جلد  حتمی شکل دی جائے۔

  وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت  سرکاری املاک اور اثاثوں کی نجکاری کے عمل میں اب تک کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس ہوا۔  اجلاس میں  وفاقی وزرا  اسد عمر،  چوہدری فواد حسین،  میاں محمد سومرو، ترجمان ندیم افضل چن ، سیکرٹری نجکاری، سیکرٹری پٹرولیم، چئیرمین سی ڈی اے و دیگر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں سیکرٹری نجکاری ڈویژن کی جانب سے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹ، ایس ایم ای بنک، جناح کنونشن سنٹر، ماڑی پٹرولیم میں حکومتی شئیرز کی فروخت، لاکھڑا کوئلے کی کان جیسی سرکاری املاک کی نجکاری کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ ایک ایسا ملک جو روزانہ کی بنیاد پر تقریبا سات ارب روپے محض قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے خرچ کر رہا ہو وہاں غیر منافع بخش اثاثوں اور غیر استعمال شدہ املاک کو برؤے کار نہ لانا ناقابلِ فہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں ایکڑ کی غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی کو برؤے کار لا کر نہ صرف حکومتی خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ترقیاتی عمل کو بھی مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

 وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کثیر منزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے سے نہ صرف رہائشی مسائل کے حل میں مدد ملے گی بلکہ ان سرمایہ کاروں کو بھی سہولت میسر آئے گی جو کاروباری و دیگر مقاصد کے لئے مناسب عمارات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسی کے تحت قوائد و ضوابط کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔